Mid-century edit · Free shipping over $85 · Shop teak & mustard
PLN350.00 PLN374.00

Pay in 4 interest-free payments of $87.50 Learn more

Aye Junoon Dasht Hai Ke Manzil - اے جنوں دشت ہے کہ منزل humnulmab or غلام باری (1907ء - 1949ء)،

SKU: 65431587870
4.1

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Aug 13 - Aug 18

Description

غلام باری (1907ء - 1949ء)، باری علیگ کے قلمی نام سے شہرت، اُردو کےاہم ادیب اور مؤرخ، کئی زبانوں کے عالم، برطانوی ہند میں ضلع گورداس پُور کی تحصیل کلانور میں پیدا ہوئے۔ تقسیم سے قبل ہی ان کا گھرانا لائل پور میں آ کر آباد ہو گیا جہاں انھوں نے کالج تک تعلیم حاصل کی۔ بعد ازاں علی گڑھ یونیورسٹی چلے آئے اور ان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں۔ برطانوی سامراج کی سختیوں سے دلبرداشتہ باری علیگ نے گھر والوں کی مخالفت کے باوجود سرکاری جاب کے لیے درخواست نہ دی اور چوری چھپے لاہور چلے آئے اورایک اخبار میں باری علیگ کے قلمی نام سے کام کرنا شروع کیا، تاہم حکومت مخالف مضامین کے باعث اخبار مالکان نے جلد ہی نوکری سے نکال دیا۔ شادی بھی انھیں کسی ایک جاب پر قانع نہ کرسکی اور وہ لاہور، امرتسر ، رنگون کے مختلف اخبارات کے لیے کام کرتے رہے۔ کمیونزم کو عروج ہوا تو اس طرف متوجہ ہوگئے کیونکہ کمیونزم انھیں اپنے امپیریلزم مخالف خیالات سے ہم آہنگ محسوس ہوتا تھا۔ برطانوی حکومت کے دَور میں ہندوستان کی جتنی بھی تاریخیں لکھی گئیں وہ انگریزوں کو ہند میں ترقی و خوشحالی کا علمبردار ٹھہراتی تھیں۔ باری علیگ نے اس نظریے کی مخالفت کی اورحقائق کی روشنی میں برطانوی ہند کی صحیح تاریخ لکھنے کی سعی کی۔ انھوں نے تاریخ پر 13 کتب لکھیں جن میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘، ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ ، ’’ تاریخ کیا ہے‘‘، ’’تاریخ کا مطالعہ‘‘، ’’انقلابِ فرانس‘‘ زیادہ مشہور ہوئیں۔ 1945ء میں ’’کمپنی کی حکومت‘‘ کا تیسرا ایڈیشن شائع ہونے لگا تو نہایت اہم ترامیم اور اضافے کیے گئے۔ یہ جدید ایڈیشن ’’بک کارنر‘‘ بہت اہتمام کے ساتھ شائع کر چکا ہے۔ باری علیگ عالمی تاریخ کے طویل مطالعہ کے بعد ’’تاریخ و تہذیب ‘‘ کے زیر عنوان ہردور کی عالمی تاریخ و تہذیب کا جامع تنقیدی جائزہ پیش کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے اور بہت سا کام مکمل کر لیا تھا، مگر 1949ء میں ان کی بے وقت موت سے نہ صرف یہ منصوبہ پایۂ تکمیل کو نہ پہنچ سکا، بلکہ مکمل شدہ کام کا بہت سا حصہ بھی ضائع ہو گیا۔ مسودے کا درمیانی حصہ بعنوان ’’اسلامی تاریخ و تہذیب‘‘ کسی نہ کسی طرح محفوظ رہا جو پہلی مرتبہ 1970ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اس مختصر سی کتاب کے مطالعہ سے تاریخِ عالم کے حیرت انگیز اور اہم ترین باب کو زیادہ صحیح طور پر سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ باری علیگ نے اپنے دور کے کئی لکھنے والوں کی سوچ کو متاثر کیا۔ سعادت حسن منٹو، باری علیگ کو اپنا رہنما اور استاد کہتے تھے۔ باری علیگ کی کتابوںنے بعد ازاں ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 42سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے وفات پائی۔ فیصل آباد میں مدفون ہیں۔ 10دسمبر1999ء میں باری علیگ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کی 50ویں برسی کے موقع پر پاکستان پوسٹ نے ایک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۔

داڑھی والا سے ایک اقتباس

Macroeconomic instability

Category: Shor stories

Aye Junoon Dasht Hai Ke Manzil - اے جنوں دشت ہے کہ منزل humnulmab or غلام باری (1907ء - 1949ء)،Pages: 366 Category: Novels

Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy

You may also like

recommand products